Skip to content
B Book Shelf by Famst Agency
dushman URDU
General urdu

dushman

by FAMST Agency

22 reads · Jul 16, 2026

menu_book Read the book

پُرانا دُشمَن

Deleted Scene From Baich Do Mazhab

— محسن کامل —


وہ: وہ مجھے کچھ کرنے نہیں دیتا۔

دوسرا: کون نہیں کرنے دیتا؟

وہ: وہی... میں کامیاب نہیں ہو پاتا، وہ سامنے آ جاتا ہے۔

دوسرا: کیا تم اسے راستے سے ہٹا نہیں سکتے؟

وہ: بہت سوچتا ہوں کہ کیسے ہٹاؤں، مگر پھر وہ آ جاتا ہے سامنے۔

دوسرا: تو اب کیا، ہار مان گئے ہو؟

وہ: نہیں، ہار تو نہیں مانا۔

دوسرا: کیا اُس سے تمہیں جیتنا ہے یا اور کچھ؟

وہ: میں بس چاہتا ہوں کہ وہ میرا ساتھ دے... وہ کیوں نہیں دیتا میرا ساتھ، میں نے اُس کا کیا بگاڑا ہے؟

دوسرا: کیا کسی کا کچھ بگاڑنا ضروری ہے؟

وہ: مگر پھر وہ مجھے چین کیوں نہیں لینے دیتا، سامنے کیوں آ جاتا ہے ہر بار، کیوں نہیں مان جاتا کہ جیسا وہ چاہتا ہے ویسا اچھا نہیں میرے لیے، وہ تباہ کر رہا ہے مجھے۔

دوسرا: کیا تم شراب پیتے ہو؟

وہ: ہاں پیتا ہوں، زندگی کی کڑواہٹوں کو بیٹھ کر ایک روز پیتا ہوں، اور اگلے روز سب اچھا اچھا لگنے لگتا ہے... مگر میں وہ کیوں نہیں ہوں جو میں چاہتا ہوں؟

دوسرا: یہ سوال کبھی خود سے پوچھا کہ کیا تم سچ میں وہی چاہتے ہو؟

وہ: چاہتا تو ہوں۔

دوسرا: کیا سچ میں؟ اور جو تم نہیں چاہتے؟

وہ: جو نہیں چاہتا وہ تو ہوں۔

دوسرا: کیا تم دل توڑتے ہو؟

وہ: میں نہیں توڑتا۔

دوسرا: سچ میں اگر ایسا لگتا ہے تمہیں تو جان جاؤ کہ تم توڑتے ہو۔

دوسرا: کبھی بنا منافع کے معافی مانگی ہے کسی سے؟ جب لگا ہو کہ دل توڑا کسی کا، معافی مانگ لوں۔

وہ: یہاں ایسا تو نہیں ہوتا، معافی تو مطلب سے مانگتے ہیں۔

دوسرا: کمال کرتے ہو تم، معافی مانگتے نہیں، اور ہونا کامیاب ہے تمہیں۔


دوسرا: رب کو مانتے ہو؟

وہ: ہاں پاگل، مانتا ہوں۔

دوسرا: تو رب کی کیوں نہیں مانتے؟

وہ: اُس کی مانوں، مومن نہ ہو جاؤں... مگر آج مومن ہونا کس کو ہے؟

دوسرا: کبھی یہ نہیں سوچا کہ اُسے مار دوں، اگر تم اُس سے اتنے تنگ ہو تو؟

وہ: کئی بار سوچا، کئی بار قتل کیا، پھر وہ قسمت والا، زندہ ہو جاتا ہے۔

دوسرا: وہ اگر قسمت والا ہے تو تم بھی تو ہو، جس میں حوصلہ ہے قتل کرنے کا، ورنہ یہاں کس کو پڑی ہے۔

وہ: میں نہیں جانتا کہ کس کو پڑی ہے اور کس کو نہیں... مجھے بچا لو نا۔

دوسرا: کیسے بچاؤں تمہیں، جب کہ تم اپنی مدد خود نہیں کر پا رہے؟

وہ: کیا مجھے کسی شخص سے مدد مانگنی ہوگی؟

دوسرا: کبھی نیا مسلمان دیکھا ہے؟ وہ والا مسلمان نہیں جو کبھی کبھی ہوتا ہے، وہ والا جو پہلی بار ہو۔

وہ: وہ تو نہیں دیکھا۔

دوسرا: میں نے دیکھا ہے۔ وہ جب مسلمان ہوتا ہے، وہ اپنے پرانے دشمن کو مار دیتا ہے، اور جب وہ پرانا دشمن پھر سامنے آ جائے، وہ صرف ایک ہی ہوتا اس کے پاس جس سے وہ مدد مانگتا۔

وہ: ایک ہی تو نہیں ہے۔

دوسرا: ایک تو ہے، مگر تم نہیں ہو اُس کے پاس۔

وہ: کیا اُسے بھی ضرورت ہے میری؟

دوسرا: تم یہ سوچو کہ تمہیں اُس کی ضرورت ہے۔

وہ: اب اُس کے پاس کیسے جاؤں؟

دوسرا: جیسے جاتے ہیں، وہ ہے پاس تمہارے، یہی ہر جگہ موجود... مگر وہ بات نہیں کرے گا تم سے۔

وہ: میں بات کر سکتا ہوں کیا؟

دوسرا: ہاں تم بات کر سکتے ہو، وہ مان بھی جائے گا۔

وہ: کیا اُس کا ماننا ضروری ہے؟

دوسرا: یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر وہ نہ مانا تو کیا ہوگا؟

وہ: کیا ہوگا... دیکھی جائے گی۔

دوسرا: دیکھی ہی تو نہیں جائے گی۔

وہ: تم مدد لے دو مجھے، میں کمزور ہوں بہت۔

دوسرا: اُس سے خود کیوں نہیں مانگتے؟ کبھی لگا تنہائی میں کہ ہے کوئی پاس، جب مڑ کے آس پاس دیکھا ہو؟

وہ: ہاں کئی بار لگتا ہے کوئی پاس ہے۔

دوسرا: کیا جب کوئی پاس نہ ہو، لگا کہ وہ ہے پاس؟

وہ: یہ تو نہیں لگا۔

دوسرا: یہ لگنا تو چاہیے تھا۔ سمجھ گیا ہوں مسئلہ کہاں ہے، وہ تمہیں نظر ہی نہیں آتا۔ تم کلمہ کیوں نہیں پڑھ لیتے ایک بار؟

وہ: پڑھ لیا، اب کیا؟

دوسرا: کچھ نہیں، تمہارا دشمن تمہاری کمزوری سے بہت طاقتور ہو گیا ہے۔ اس کے اب چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تمہیں پتہ نہیں چلتا، دل کے بہت صاف ہو تم، ہوتا یہ ہے کہ جب تم اپنے دشمن کو ہرانے یا مارنے کی کوشش کرتے ہو تو معصوم بچے سامنے آ جاتے ہیں۔

وہ: کیا وہ بچے میں نے پیدا کیے؟

دوسرا: وہ بچے تمہارے ہی دشمن کے ہیں، تمہارے ہی ہوئے۔ تمہیں یہ کبھی نہیں لگا کہ جانے انجانے تم محبت کر بیٹھے ہو، اپنے دشمن کے ساتھ۔

وہ: مگر میں جہاں سے چلا تھا وہی تو ہوں ابھی، کہ وہ مجھے کچھ کرنے کیوں نہیں دیتا۔

کہانی

یہاں سے میلوں دور ایک شخص ہوا کرتا تھا، نام تھا اس کا جوئی فل۔ بہت خوش رہنے والا، محبت دینے والا۔ اس کا ماننا تھا کہ سب جانداروں میں محبت ہو سکتی ہے۔ لوگ نہیں مانتے تھے، اس نے کہا میں ثابت کروں گا۔ اس نے ایک بلی اپنے ایک دوست سے لی اور ایک چوہا۔ دونوں کو قریب قریب رکھا۔ وہ بلی کو بہت زیادہ کھانا کھلاتا تھا۔ پہلے پہلے دونوں کو پنجرے میں رکھتا تھا، پھر جب اسے لگا کہ اب محبت ہو گئی ہے، اس نے پنجرے سے نکال دیا۔ اب اسے دونوں سے بہت محبت تھی اور وہ کامیاب بھی ہو رہا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے سارے دوستوں کو اپنے گھر بلایا اور کہا: "تم لوگ خواہ مخواہ کہتے تھے کہ نہیں ہو سکتی، دیکھو تو کتنا پیار ہے ان میں۔" کیک کاٹے گئے، خوب خوشی منائی گئی۔ مگر اس روز جلدی میں وہ بلی کو پیٹ بھر کے کھلانا بھول گیا۔ بلی نے بچا ہوا کیک کھایا، مگر اس کا پیٹ نہ بھرا۔ پھر اس نے چوہے کی طرف دیکھا۔ دیکھتے ہی اسے پیار بھی آیا... مگر رحم نہ آیا۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں پورا چوہا نگل لیا۔

دوسرا: پتہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ تم بھوکے ہو۔ ایک بات مانو گے میری؟

وہ: اسی لیے ہی تو آیا ہوں تمہارے پاس۔

اختتام

اب کی بار جب وہ کچھ کرے، اسے نہیں مارنا۔

سب سے پہلے اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مارنا ہے۔

اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو مارو گے، ایک دن آئے گا وہ خود ہی غیرت کھا کے مر جائے گا بے شرم۔

کرو گے نہ ایسا؟


Written: Mohsin Kamil | Purana Dushman | Baich Do Mazhab

You might also like